اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے صرف ایک اکاﺅنٹ کے بارے میں شبہ ہے کہ اس میں 16 لاکھ یورو کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ سپریم کورٹ میں اپنے دعوﺅں سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ”میں نے ابھی جسٹس ثاقب نثار اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان کے سامنے علی عمران کے 40 بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات پیش کر دی ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں اور ان میں سے کئی فارن کرنسی اکاﺅنٹس ہیں۔اگلی سماعت پیر کو ہے اور میری اطلاع ہے کہ اس کے 20 سے 25 مزید اکاﺅنٹس ہیں جو باہر کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام بینک اکاﺅنٹس اسی کے نا م پر ہیں، یعنی نام عمران اور نیچے قصور کے گھر والا ایڈریس لکھا ہوا ہے، دنیا بھر کے بینکوں میں اس کے اکاﺅنٹس ہیں، وہ ساری تفصیلات جج صاحبان کو دیدی ہیں اور میری کوشش ہو گی کہ پیر تک اس کے مزید اکاﺅنٹس کی تفصیلات دوں، ملزم کے تقریباً 80 اکاﺅنٹس بنتے ہیں۔ایک اکاﺅنٹ تو ایسا ہے جس میں شبہ یہ ہے کہ 16 لاکھ یورو کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے اور یہ ”چائلڈ پورنو گرافی“ کے بہت بڑے مافیا کا چھوٹا سا کارندہ ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز اگلی سماعت کا اعلان کرتے ہوئے ملزم کی سیکیورٹی فوری طور پر بڑھا دینے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ آئی جی پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات اس کی جان کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔“