مغربی عملیت پسندی ایک ایسا مکتب فکر  ہے جس
میں تجربیت اور عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔  مغربی فلسفہ عملیت پسندی میں  چارلس سینڈرس  ماہر نفسیات ولیم جیمز اور عالمی ماہر تعلیم جان ڈیوی شامل ہیں ان کا نظریہ تھا کہ عمل پر عقیدہ کو فوقیت حاصل ہے۔ پہلےسے مرتب شدہ اصولوں کو نظر انداز کرکے نئے تجربے کو اہمیت دینی چاہیے۔

انسان صرف اسی شےکو حقیقت تسلیم کرتا ہے جس کا وہ تجربہ کرتا ہے۔  انسان  تجربات سے پرے نہیں دیکھ سکتا یعنی تجربہ ہی وہ واحد پیمانہ ہے جس کے زریعے ہم دنیا کے متعلق جان سکتے ہیں۔ان تجربات سے پرے جانا کائنات کے آغازو انجام کے متعلق  غورو فکر کرنا ان نظریات کی کوئ اہمیت نہیں یعنی تجربہ ہی صرف وہ باہر پیمانہ ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کے متعلق جان سکتے ہیں .

ان تجربات سے پرے جانا  کائنات کا آغاز و انجام کو مطالعہ کرنا ان نظریات کی کوئی اہمیت نہیں۔کیونکہ انسان ان کا تجربہ کر ہی نہیں سکتا۔  سچائی کو جانچنے کا پیمانہ صرف اور صرف  تجربہ ہے۔اور سچائی  صرف ایک مخصوص زمان ومکاں میں وجود رکھتی ہے۔  یہ نظریہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافت سے ملتا جلتا ہے کہ کوئی بھی چیز مطلق اور حقیقی وجود ہی نہیں رکھتی نظریہ عملیت پسند انسانی خیال کو مادے سے الگ تھلگ رکھتا ہے.

لہذا وہ خیال کی اہمیت کا انکاری ہو جاتا ہے ۔اس نظریے کا حامی جان ڑیوی کہتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں ہر طرف شر نظر آتا ہے۔اب اسے اس شر کی توجیہ پیش کرنےکے لیے مزہب کا تصور اخز کرنا پڑا۔ ہر مزہب میں خدا کے متعلق مختلف نظریات ہیں۔جو اس شر کی توجیہ پیش کرتےہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ مختلف مزاہب نے جنم لیا۔نظرہہ عملیت تجربے کی بنیاد پر مزہب کے تمام نظریات کو رد کر دیتا ہے کہ وہ کسی مزہب کو پرکھ نہیں سکتے۔ہم نہیں جانتے کہ زندگی نعد از موت ہے کہ نہیں کیونکہ ہم نے اس کا ادراک نہیں کیا۔لہزا ہم کچھ نہیں کہ سکتے کسی مزہب کا کوئ وجود  ہے یا کہ نہیں۔

تحریر: ارم صبا ( کیر یر کونسلر)

iram saba range chaman