لینسنگ/ واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست مشی گن کی عدالت نے اپنے پیشے کا غلط استعمال کرکے 163 لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ڈاکٹر کو 175 برس قید کی سزا سنادی گئی۔ خاتون جج نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو مخاطب کرکے کہا ’ میں نے تمہاری موت کے پروانے پر دستخط کردیے، تمہیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ کبھی بھی جیل سے باہر قدم رکھ سکو۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی جمناسٹک ٹیم کے فزیو تھراپسٹ ڈاکٹر لیری نصر پر الزام تھا کہ اس نے اپنے پیشے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نابالغ جمناسٹک پلیئرز کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا بلکہ وہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بناتا تھا۔2016 میں لیری نصر کو گرفتار کیا گیا تھا ، گھر پر تلاشی کے دوران اس کے پاس سے ہزاروں کی تعداد میں خواتین کھلاڑیوں کی نازیبا تصاویر برآمد ہوئی تھیں جس کے بعد اسے چائلڈ پورنو گرافی کے الزام میں 60 برس قید کی سزا سنائی گئی۔بدھ کے روز کئی گھنٹے طویل کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر لیری نصر کی جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والی لڑکیوں نے عدالت کے روبرو اپنے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعات بیان کیے۔ ڈاکٹر لیری نصر کے خلاف ہونے والے مقدمے کی کارروائی براہ راست نشر کی گئی۔ایک متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ 15 سال کی تھی تو اسے جمناسٹک کی پریکٹس کے دوران کچھ چوٹ آئی جس پر ڈاکٹر لیری نصر اسے الگ کمرے میں لے گیا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کی والدہ بھی کمرے میں آنا چاہتی تھی لیکن ڈاکٹر نے اسے روک دیا کیونکہ اس شخص کو لوگوں کو اعتماد میں لینا اور ان کا بھروسہ جیتنا آتا تھا۔ ریاست مشی گن کی عدالت نے کئی گھنٹے طویل سماعت کے بعد ثبوتوں، گواہان، مدعیان اور مجرم کے اعترافِ جرم کی روشنی میں اسے 175 برس قید کی سزا سنادی۔ خاتون جج روز میری ایکویلینا نے فیصلہ سناتے ہوئے انتہائی سخت ریمارکس دیے اور کہا’ میں نے تمہاری موت کے پروانے پر دستخط کردیے ہیں، تمہیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ کبھی بھی جیل سے باہر قدم رکھ سکو‘۔