ظلم و درندگی کی زندہ مثال حافظ آباد کی ایک لڑکی جس پر اسکے سگے بھایوں نے ظلم کے پہاڑ ڈھاۓ۔اسے کمرے میں 20 سال تک صرف اس لیے اس لئے بند رکھا تھا کہ وہ جائیداد میں سے اپنا حصہ نہ مانگ سکے۔

یہ واقعہ حافظ آباد کے ایسے محلے میں پیش آیا جہاں چوبیس گھنٹے لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے۔تنگ گلیاں ہیں اور اس کےہمسایوں نے اس لیے آواز نہ اٹھائی کیونکہ اس کے دونوں بھائیوں کو بااثر افراد کی پشت پناہی تھی۔ جوسلوک اس کے ساتھ اس کے بھائیوں نے کیا ہے ایسا توجانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔

hafizabad-ki-naila-ky-sath-hoy-wala-afsoos-nak-zulam-1.png

سب سے چونکا دینے والی بات تو یہ تھی کہ اس کا ایک بھائی اپنے کالج اور اکیڈمی کے سربراہ تھا ایک تعلیم دینے والا شخص ایسا ظلم کیسے کرسکتا تھا ۔ پوچھنے پر یہ معلوم ہوا کے نائلہ کو کھانا بھی شاپر میں دیا جاتا تھا اور اس کے اس کے بھائی آتے اور کمرے میں پھینک کر چلے جاتے۔ صفائی وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اور پاؤں کے ناخن ایک سے دو انچ تک بڑے ہوچکے تھے اور پاؤں میں کیڑے کر چکے تھے۔

جب اپنے ہی چند پیسوں اور زمین کی خاطر ایسا ظلم کریں گے تو دوسروں سے کیا توقع کی۔ جاسکتی ہے ۔