کیا قصور کو کوئی بد دعا ہے،جو جرم نہیں پکڑا جاتا ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی

0
240


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور پائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے ہےں کہ کیا قصور کو کسی کی بددعا ہے جو کچھ وہاں ہواکسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔یہ ریمارکس انہوں نے 15سالہ لڑکی گڑیا کی عدم بازیابی بارے درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔ درخواست گزار ثمینہ بی بی نے موقف اختیار کیا کہ اس کی گڑیا نامی بیٹی لاپتہ ہے مگر پولیس اس کو بازیاب کرنے کی بجائے غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور نے پیش ہو کر بتایا کہ درخواست گزار خاتون اور اس کی بیٹی کے خلاف بھیڑ بکریاں چوری کرنے کا الزام ہے،ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ خاتون کی بیٹی کا نام گڑیا نہیں بلکہ ساجدہ ہے، عدالت نے ڈی پی او کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قصورکو کیا کسی کی بددعا ہے کہ وہ برائی میں پہلے درجے کا شہر بن چکا ہے، قصور میں بچیوں کو بداخلاقی کے بعدقتل کیا جاتا رہا مگر کسی کے کان پر جون تک نہ رینگی، عدالت نے ڈی پی او کوبچی کی بازیابی کی ہدایت کرتے ہوئے 5یوم میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔