جرمن فلسفی  شوپنہار

جرمن فلسفی  شوپنہار کہتا ہے کہ انسان بنیادی طور پر دکھی  ہے کیونکہ وہ اپنی خواہشات ایک بے لگام گھوڑے پر سوار ہوکر ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتا ہے لیکن جیسے ہی خواہش پوری ہوتی ہے تو وہ اس سے بوریت محسوس کرکے دوسری خواہش کے پیچھے بھاگتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ عقل خواہش کے تابع  ہوتی ہے اور خواہشات کی تکمیل کے راستے دریافت کرتی ہے۔

خواہش اک تندرت و توانا انسان کے مانند ہے جو اندھا ہے . اس کے کندھے پر ایک لنگڑا سوار ہے جو دیکھ سکتا ہے ۔انسان خواہشات کی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتا لہذا زندگی ایک شر ہے یہ ایک جبر مسلسل ہے اور ہر جاندار اس جبر مسلسل میں مبتلا ہے ۔شوپنہار کے نزدیک حقیقت مطلقہ ارادہ حیات ہے لیکن وہ اسے اندھا ارادہ قرار دیتا ہے۔ شوپنہار کا ارادہ خیات کا یہ بقاے دوام کا نظریہ بدھ مت کے نظریے کی طرح ہے کہ  فرد حقیقت میں گم  ہو کر معدوم  ہوجاتا ہے لیکن اگر ہم بہت مطالعہ کریں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ شوپنہار کا فلسفہ قنوطیت گوتم بدھ کے فلسفہ نروان سے مماثلت  رکھتا ہ

ے۔کیونکہ بدھ مت کے نزدیک عظیم سچائی دکھ ہے ۔وہ کہتا ہے کہ یہ دنیا دکھوں کا گہوارہ ھے۔ جسمانی تکالیف حالات کی ستم ظریفی ذہنی پریشانی دوستوں عزیزوں کا بچھڑ جانا ہے اور زندگی کی  خوشیاں بھی دکھ دیتی ہیں کیونکہ یہ مستقل نہیں ہوتی انسان ایک دکھی زندگی گزار رہا ہے جس میں دکھ کی افزائش کوسوا کچھ نہیں ۔

humanbeings are sad

وہ کہتا ہے دکھ  کا اصل سبب خواہشات کا بے ہنگم پیھلاو ہے یہی خواہش انسان کو ہر وقت بے چین رکھتی ہے اور انسان جس طرح ناآسودہ اس دنیا میں آتا ہے اسی طرح غیر مطمئن ہو کر رخصت ہو جاتا ہے  لیکن یہاں پر گوتم بدھ  شوپنہار سے مختلف نظریات پیش کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ انسان دکھوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے انسان کا منزل مقصود یہ ہونا چاہیے کہ  وہ خواہشات کی قید سے  نکل وجود نروان میں پہنچ جائے ۔نروان کے معنی نجات اور  مادہ سے آزادی دکھوں سے  چھٹکارا کے ہیں وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں نہ تو ٹھوس ہے نہ سیال، نہ حرارت ہے بدورت۔ یہ دولت مراقبہ سے  حاصل ہوتی ہے زندگی کی مصیبتوں سے چھٹکارا نروان کی کی بدولت ہی ممکن  ہے اس لیے نروان اس فانی دنیا میں انسان کا مطلوب حقیقی ہے۔

شوپنہار کو بابائے قنوطیت کہا جاتا ہے گوتم بدھ بھی اس فلسفے کا حامی ہے کہ دنیا دکھوں کا گہوارہہے۔ لیکن گوتم بدھ دکھوں سے نجات کا راستہ نروان کی صورت میں بتاتا ہے۔۔۔۔۔

تحریر : ارم صبا۔۔(کیرئر کونسلر )۔