قدیم یونانی سوفسطائی فلسفے کا حامی پروٹاگورس کہتا ہے کہ انسان ہر شے کا پیمانہ ہے۔ یعنی ہر شخص اپنی ذات میں حق رکھتا ہے ۔ہر شخص کی موضوعی سچائی ایک معروضی سچائی ہے جب موضوعی سچائی ایک معروضی سچائی کی حیثیت رکھے گی تو اصل سچائی کی تعریف کیا ہوگی۔

اس سوچ پر قدیم یونانی فلاسفرز افلاطون اور ارسطو نے کافی تنقید کی ہے لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں پاکستان کے تمام اداروں کا نظام اسی فلسفے کو بنیاد بناتا ہے جو کہ بگاڑ کا اصل موجب ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا اخلاقی المیہ ہے کہ درست اور غلط کے درمیان تفریق نہ کی جاسکے۔ 

مذہبی جماعتیں اپنے اپنے نظریات کو معروضی سچائی کے پیمانے پر پورا اترنے کا نام دیتی ہیں۔ جذبہ قومیت کا فقدان اور صوبائی عصبیت تمام ریاستی اداروں میں واضح نظر آتا ہے ہماری سیاسی نظام میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی نظریاتی جنگ صرف ذاتی مفاد سے شروع ہوکر ذاتی مفاد پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔

ذاتی مفاد ملی مفاد بن کر رہ جاتا ہے اور یوں بہت سے ملی مفادات کی نظریاتی جنگ میں حق  کی بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی ۔   اقرباپروری  ہر طبقے میں نظر آتی ہے اور یہی سوچ اصل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔جس نے معاشی اور اسلامی اقدار کو تباہ کردیا ہے۔

مادہ پرستی کی جڑوں  میں پنپتی جدید دور کی تعلیم نفع اور نقصان کو ازلی اور ابدی حقیقت سمجھتے ہوئے اسی کے ترازو میں زندگی کے ہر نعمت، ہر رشتے کو تولتی ہے ۔ جس رشتے اور نعمت کا پلڑا بھاری ہوگا بغیر تحقیق کے اسی جانب  قدم بڑھیں گے۔لہزا انسان ہی ہر شے کا پیمانہ ہے اس  فلسفے کے خلاف جہاد موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے