قطرہء اشک ہوں پلکوں پہ سجاﺅ تو سہی
غم میرا اپنے بھی کاندھے پہ اٹھاﺅ تو سہی

پھر اجالے درودیوار پہ ہو جائیں گے
تم چراغوں کی طرح خود کو جلاﺅ تو سہی

تیری یادوں کو سجا رکھا ہے آکر تو دیکھو
منتظر میں ہوں میرے گھر کبھی آﺅ تو سہی

فاصلے سے ہی سہی حسن ءسماعت کے لئے
تم کوئی گیت محبت کا سناﺅ تو سہی

اپنے حصے کی خوشی صرف طلب کی تم سے
نور نے کب کہا پلکوں کو بچھاﺅ تو سہی

(سیدہ نور جہاں (ممبئی