اسلام آباد آ(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح طور پر کہا ہے کہ پارلیمنٹ ایک اعلیٰ ادارہ ہے لیکن آئین پارلیمنٹ سے بھی بالاتر ہے۔میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا نمائندوں کے سامنے آج بھی کہہ رہا ہوں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم مداخلت کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے مگر پارلیمنٹ سے اوپر ایک چیز ہے جس کا نام آئین ہے اور ہماری حدود آئین نے متعین کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر نظر ثانی کا حق ہمیں آئین دیتا ہے اور مقننہ کو آئین سے ہٹ کر کوئی اختیارات حاصل نہیں ہیں اور اور نہ ہی مقننہ بنیادی حقوق کے خلاف کوئی قانون سازی کر سکتی ہے۔