1. قصور (روزنامہ حروف آن لائن) زینب کے والد محمد امین انصار کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو پریس کانفرنس میں تالیاں نہیں بجوانی چاہئیں تھی، مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ امین انصاری کے وکیل آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے نہیں بلکہ ورثا نے خود پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے زینب کے والد امین انصاری نے کہا کہ پریس کانفرنس میں تالیاں بجانا ٹھیک نہیں تھا اگر کسی کو سراہنا ہی تھا تو الفاظ سے بھی تعریف کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس میں انہیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی بات کرکے چلے گئے۔امین انصاری کے وکیل آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ ملزم عمران کو کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے نہیں بلکہ عزیز و اقارب نے پکڑ کر پولیس نے دیا، زینب کے رشتہ دار اسی ملزم کی نشاندہی پہلے بھی کرتے رہے ہیں لیکن کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے شہباز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زینب کا قاتل گرفتار ہونے پر تو شہباز شریف کریڈٹ لینے آگئے لیکن جب قصور کے اندر 2 لاشیں گریں اس وقت وزیر اعلیٰ کہاں تھے اور ان کے قاتلوں کو کون گرفتار کرے گا۔