اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹی وی پروگرامز اور انٹرنیٹ پر جو فہرست چل رہی ہے، یہ وہ فہرست نہیں ہے جو میں نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ”میں آپ کو یہ بتاﺅں کہ زینب کا قتل ہوا ہے اور بندہ پکڑا گیا ہے، میں نے کل اس پر بات کی تھی کہ میرے پاس کچھ چیزیں ہیں جو میں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کی انتہائی مہربانی جنہوں نے صبح ازخود نوٹس لیا اور مجھے 9 سے ساڑھے 9بجے کے قریب سپریم کورٹ سے کال آئی کہ آپ 11 یا ساڑھے 11 بجے فری ہیں۔ میں نے کہا کہ فری ہوں تو مجھے کہا گیا کہ آپ سپریم کورٹ آ جائیں کیونکہ عدالت سے آپ نے جو ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ خدا کا واسطہ ہے اس کی تحقیقات کریں تو غالباً چیف جسٹس آف پاکستان نے آپ کا پروگرام دیکھا ہے تو وہ آپ کو سننا چاہتے ہیں۔ میں عدالت چلا گیا جہاں تین رکنی بنچ تھا جس کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار خود کر رہے تھے۔انہوں نے عدالت میں وہ کلپ چلایا جس دوران میں نے ساری گفتگو کی تھی اور پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو سارے ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ پر کاغذات اور فہرستیں چلا رہے ہیں، میں نے وہ کاغذ سپریم کورٹ میں نہیں دئیے، جتنے پروگرامز کے دوران میںکاغذات دیکھ رہا ہوں، یہ وہ نہیں ہیں جو میں نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے ہیں۔سماعت کے دوران وہاں پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ، جن کا نام غالباً عائشہ ہے، وہ موجود تھیں جنہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب کمیٹی بنائی ہے؟ چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ کے ذہن میں اور کیا بات ہے تو میں نے کہا کہ یہ تو وہ باتیں ہیں جو میں نے باہر سے سنیں۔ چیف جسٹس سے اہم بات یہ بھی کی کہ اگر آپ اجازت دیں اور اس معاملے کی مزید تحقیقات کی جائیں تو اس میں باہر کے اکاﺅنٹس بھی ملوث ہیں اور یہ بہت بڑا گینگ ہے۔“دوسری جانب سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کا کسی بینک میں کوئی اکاﺅنٹ نہیں ہے جس کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود کو بھی کئی ٹی وی چینلز پر موقف دینے کی دعوت دی گئی تاہم وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بچیں نہ بچیں، یہ درندے نہیں بچ پائیں گے۔